Ahmed Raza Ka Taza Gulistan Hai Aaj Bhi Lyrics in Urdu

احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی
خورشید علم اُنکا درخشاں آج بھی

عرصہ ہوا وہ مردِ مجاہد چلا گیا
سنیوں میں اِک سوزشِ پنہاں ہے آج بھی

ایمان پا رہا ہے حلاوت کی نعمتیں
اور کُفر تیرے نام سے لرزہ ہے آج بھی

کس طرح اتنے علم کے دریا بہا دیے
علمائے حق کی عقل تو حیراں ہے آج بھی

مغموم اہلِ علم نا ہو کیوں تیرے لیے
جب علم خود ہی سر بہ گریباں ہے آج بھی

بھر دی دِلوں میں اُلفت و عظمت رسول کی
جو مخزن حلاوت ایمان ہے آج بھی

تُم کِیا گئے کے رونقِ محفل چلی گئی
شیر و ادب کی زُلف پریشاں ہے آج بھی

عالم کی موت کہتے ہیں عالم کی موت ہے
اپنے کیے پہ موت پشیماں ہے آج بھی

وابستگان کیو ہو پریشان اُن پہ جب
لطف و کرم اُنکا داماں ہے آج بھی

للہ اپنے فیض سے اب کام لیجیے
فتنوں سے سر اٹھانے کا امکاں ہے آج بھی

طیبہ میں اُسکی ذات سلامت رہے کہ جو
تیری امانتوں کا نگہاں ہے آج بھی

مرزا سر نیاز جھکاتا ہے اِس لئے
علم و ادب آپ کا احساں ہے آج بھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *