اللہ نے پہنچایا سرکار ﷺ کے قدموں میں
کیا کیا نہ سکوں پایا سرکار ﷺ کے قدموں میں
دل کا تھا عجب عالم ان کے درِ اقدس پر
سر پر تھا عجب سایہ سرکار ﷺ کے قدموں میں
وہ ربِ محمد ﷺ کا تھا خاص کرم جس نے
عالم نیا دیکھلایا سرکار ﷺ کے قدموں میں
جب سامنے جالی کے اشکوں کی سلامی دی
سو شکر بجا لایا سرکار ﷺ کے قدموں میں
تارا تھا کہ جگنو تھا گوہر تھا کہ برگِ گل
جو اشک کے لہرایا سرکار ﷺ کے قدموں میں
سانسوں کا تموج بھی اک بار لگا مجھ کو
وہ مرحلہ بھی آیا سرکار ﷺ کے قدموں میں
وہ اپنے گناہوں کا احساس تھا بس تائب
جس نے مجھے تڑپایا سرکار ﷺ کے قدموں میں