بُلا لو پھر مجھے اے شاہِ بحر و بر، مدینے میں

 

بُلا لو پھر مجھے اے شاہِ بحر و بر، مدینے میں
میں پھر روتا ہوا آؤں، تیرے در پر مدینے میں

نہ دولت دے نہ شہرت دے، مجھے بس یہ سعادت دے
تیرے قدموں میں مر جاؤں، میں رو رو کر مدینے میں

مدینے جانے والو جاؤ جاؤ فی امانِ اللہ
کبھی تو اپنا بھی لگ جائے جا بستر مدینے میں

میرا غم بھی تو دیکھو، میں پڑا ہوں دور طیبہ سے
سکون آئے گا بس میرا دلِ مضطر مدینے میں

سلامِ شوق کہنا حاجیو میرا بھی رو رو کر
سنाना داستانِ غم میری رو کر مدینے میں

مدینہ اس لیے عطار جان و دل سے ہے پیارا
کہ رہتے ہیں میرے آقا میرے دلبر مدینے میں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top