دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے
طے کر رہا ہے جو تو دو دن کا یہ سفر ہے
جب سے بنی ہے دنیا آئے ہزاروں لاکھوں
باقی رہا نہ کوئی مٹی میں سب سمائے
اس بات کو نہ بھولو سب کا یہی حشر ہے
دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے
یہ عالی شان بنگلے وہاں کام کے نہیں ہیں
مخمل پہ سونے والے ماٹی میں سو رہے ہیں
دو گز زمین کا ٹکڑا مٹی کا تیرا گھر ہے
دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے
محلوں میں سونے والے مٹی میں سو رہے ہیں
شاہ و گدا یہاں سب ایک ساتھ سو رہے ہیں
دونوں ہوئے برابر یہ موت کا اثر ہے
دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے
آنکھوں سے تو نے اپنی کتنے جنازے دیکھے
ہاتھوں سے تو نے اپنے دفنائے کتنے مردے
انجام سے تو اپنے کیوں اتنا بے خبر ہے
دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے