اتنا کافی ہے زندگی کے لیے
رکھ لیں آقا جو نوکری کے لیے
ماہ و خورشید ان کی چوکھٹ پر
روز آتے ہیں روشنی کے لیے
چاند تارے بھی ان کے قدموں میں
روز آتے ہیں روشنی کے لیے
دونوں عالم بنائے مولا نے
یا نبی! صرف آپ ہی کے لیے
تک کے ان کو ایوب کے گھر میں
محل ترسے ہیں جھونپڑی کے لیے
آ گئے قبر میں بھی چھڑوانے
درد کتنا ہے امتی کے لیے
لمبے سجدے کئے نبی نے، کہا
اے نواسے! تری خوشی کے لیے
دید مانگی ہے ان کی، اے حاکم!
میں نے بس وقتِ آخری کے لیے