میں تو پنجتن کا غلام ہوں
میں غلام ابنِ غلام ہوں
مجھے عشق ہے تو خدا سے ہے
مجھے عشق ہے تو رسول سے
یہ کرم ہے سارا بتول کا
میرے منہ سے آئے مہک سدا
جو میں نام لوں تیرا جھوم کے
میں تو پنجتن کا غلام ہوں (2)
مجھے عشق سرو و سمن سے ہے
مجھے عشق سارے چمن سے ہے
مجھے عشق ان کے وطن سے ہے
مجھے عشق ان کی گلی سے ہے
مجھے عشق ہے تو علی سے ہے
مجھے عشق ہے تو حسن سے ہے
مجھے عشق ہے تو حسین سے
مجھے عشق شاہِ زمن سے ہے
میں تو پنجتن کا غلام ہوں (2)
ہوا کیسے تن وہ سر جدا
جہاں عشق ہو وہی کربلا
میری بات انہی کی بات ہے
میرے سامنے وہ ہی ذات ہے
وہی جن کو شیرِ خدا کہیں
جنہیں بابِ صلِ علیٰ کہیں
وہی جن کو آلِ نبی کہیں
وہی جن کو ذاتِ علی کہیں
وہی پختہ ہیں، میں تو خام ہوں
میں تو پنجتن کا غلام ہوں (2)
میں قمر ہوں شاعرِ بے نوا
میری حیثیت بھی بھلا کیا
وہ ہیں بادشاہوں کے بادشاہ
میں ہوں ان کے در کا، بس اک گدا
میرا پنجتن سے ہے واسطہ
میرا نسبتوں کا ہے سلسلہ
میں فقیر خیر الانام ہوں
میں تو پنجتن کا غلام ہوں (2)
میرا شعر کیا میرا ذکر کیا
میری بات کیا میری فکر کیا
میری بات ان کے سبب سے ہے
میرا شعر ان کے ادب سے ہے
میرا ذکر ان کے طفیل سے
میری فکر ان کے طفیل سے
کہاں مجھ میں اتنی سکت بھلا
کہاں منقبت کا بھی حق ادا
میں تو پنجتن کا غلام ہوں (2)