میری الفت مدینے سے یوں ہی نہیں

 

میری الفت مدینے سے یوں ہی نہیں
میرے آقا کا روضہ مدینے میں ہے

میں مدینے کی جانب نہ کیسے کھنچوں
میرا دین اور دنیا مدینے میں ہے

عرش اعظم پہ جس کی بڑی شان ہے
روضہ مصطفیٰ جس کی پہچان ہے
جس کا ہم پلہ کوئی محلہ نہیں
ایک ایسا محلہ مدینے میں ہے

پھر مجھے موت کا کوئی خطرہ نہ ہو
موت کیا زندگی کی بھی پروا نہ ہو
کاش سرکار ایک بار مجھ سے کہے
آ تیرا جینا مرنا مدینے میں ہے

سرور دیں جہاں سے دعا ہے میری
یہ بدو چشم تر التجا ہے میری
ان کی فہرست میں میرا بھی نام ہو
جن کا روز آنا جانا مدینے میں ہے

جب نظر سویے طیبہ روانہ ہوئی
ساتھ دل بھی گیا ساتھ جان بھی گئی
میں منیر اب رہوں گا یہاں کس لئے
میرا سارا اثاثہ مدینے میں ہے

پھول کھلتے ہیں پڑھ پڑھ کے صلی علیٰ
جھوم کر کہہ رہی ہے یہ باد صبا
ایسی خوشبو چمن کے گلون میں کہاں
جیسی خوشبو نبی کے پسینے میں ہے

ایک ہے جنت تیری ایک ہے حجرہ تیرا
میرے مولا بتا اب میں جاؤں کہاں
بھیج دی رب نے جنت اسی حجرے میں
امی عائشہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ مدینے میں ہے

ایک ہے چاند عرش کا ایک ہے چاند فرش کا
فرش کے چاند کا جلوہ دیکھو ذرا
ایک اشارے سے ٹکڑے ہوا وہ قمر
اس قمر کا قمر بھی مدینے میں ہے

میں نے مانا کہ جنت بہت ہے حسین
چھوڑ کر میں مدینہ نہ جاؤں کہیں
کیوں کہ جنت میں سب ہے مدینہ نہیں
اور جنت مدینے میں موجود ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top