ذرّے جَڑھ کر تیری پیزاروں کے
ذرّے جَڑھ کر تیری پیزاروں کے
تاجِ سر بنتے ہیں سیّاروں کے
ہم سے چوروں پہ جو فرمائیں کرم
خلعتِ زر بنیں پُشْتَروں کے
میرے آقا کا وہ در ہے جس پر
ماتھے گھِس جاتے ہیں سرداروں کے
میرے عیسیٰ تیرے صدقے جاؤں
طُور بے طُور ہیں بیماروں کے
مجرِموں! چشمِ تبسّم رکھو
پھول بن جاتے ہیں انگاروں کے
تیرے ابرو کے تصدُّق پیارے
بند کر رہے ہیں گرفتَاروں کے
جان و دل تیرے قدم پہ وارے
کیا نصیبے ہیں تیرے یاروں کے
صدق و عدل و کرم و ہِمّت میں
چار سُو شہرتیں ہیں ان چاروں کے
بحرِ تسلیمِ علی میدان میں
سر جھکے رہتے ہیں تلواروں کے
کیسے آقاؤں کا بندہ ہوں رضا
بول بالے میری سرکاروں کے