Arzo-samaa Banay Hain Lyrics in Urdu

عرض و سماء بنے ہیں اسی نور کے طفیل

تارے چمک رہ رہے ہیں اسی نور کی طفیل

گلشن ہرے بھرے ہین اسی نور کی طفیل

دونو جہاں سجے ہین اسی نور کے طفیل

اس نور کا عذل سے ابد تک ہے سلسلہ

یہ نور وہ ہے جس کا طرفدار ہے خدا

آیا ہے راہِ راست دکھانے کے واستے

بندوں کو انکے رب سے ملانے واستے

بُنیاد بت کدو کی گرانے کے واستے

رسم و رواج کفر مٹانے کے واستے

انسان کو بندگی کا سلیقہ سکھائے گا

یہ نور ظلمتوں کو اجالاے بنائے گا

گفتار لاجواب ہے کر دار بے نظیر

ھامی سیتم زدوں کا یتیمون کا دستگیر

ہلکا بگوش اسکے ہیں کیا شاہ کیا فقیر

انسان رہ سکے گا نا انسان کا اسیر

بھوکا رہے گا خود وہ جہاں کو کھلایے گا

وہ اپنے دشمنو کو گلے سے لگایے گا

پیگامِ حق یہ سارے جہاں کو سنائے گا

کینہ زادون کو رشک گلستان بنائے گا

ہر غم رحمتون کے خزانے لوٹایے گا

انسان کو درس اخوت سکھائے گا

دیگا کچھ اس ادا سے پیغمام دوستی

زہنو سے دور کردےگا صدیوں کی دشمنی

یہ صاحب جمال ہے یہ صاحب کمال

خوش دل ہے خوش پسند خوش خلق خوش خصال

خلق دو جہاں کی ہے تحلیق بے مثال

ممکن نہیں ہے اسکو کسی دور میں ذوال

روشن کرےگا رشدو ہدایت کی وہ دیے

بن جایے گے سبق جو ہر دور کی لیے

بیشک یہی ہے باعثِ تخلیق کائنات

چمکے گا اسکے حسن سے ہر گوشۂ حیات

راسخ ہے اسکا قول تو سچی ہے ہر ایک بات

دل میں ہے اسکے رحم نذر میں التفات

اسکے کرم کی ہد ہے نا کوئی حساب ہے

جِس پار نگاہ دال دے وو آفتاب ہے

آیا ہے مفلسوں کی ہمایت لیئے ہوے

مظلوموں بیکسوں کی محبت لیئے ہوے

اھلِ گناہ کے حق میں شفاعت م لیے ھوئے

سارے جہاں کے لیے رحمت لیے ہوے

ہوگا اسکی زات پار قرآن کا نزول

وہ آخری کتاب ہے یہ آخری رسول

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *