جب گنبد خَضْرا پی وہ پَہْلی نظر گی
آنکھوں کے راستے میرے دل میں اتر گی
جب گنبد خَضْرا پی وہ پَہْلی نظر گی
برسی تھی اس قدر کے نہا سا گیا ادھر
وہ بارش کرم میرے دامن کو بھر گی
جب گنبد خَضْرا پی وہ پَہْلی نظر گی
سر خم تھا ، لب خاموش تھے ، آنکھیں تھیں اشکبار
ایک ساعت بیدار تھی جو کے گزر گی
جو کہ سکا نہ لب سے ، ملی وہ مراد بھی
میرے سکوت پر بھی شہا کی نظر گی
جب گنبد خَضْرا پی وہ پَہْلی نظر گی
طیبہ سے لوٹنا کسی عاشق سے پوچھیے
ایسا لگے کے روح بدن سے گزر گی
جب گنبد خَضْرا پی وہ پَہْلی نظر گی
آواز عُبَید تیری بَہ فیضان نعت ہی
سینوں میں عاشِقان نبی کے اتر گی
جب گنبد خَضْرا پی وہ پَہْلی نظر گی