فدا کر عشقِ نبی پر جان

فدا کر عشقِ نبی پر جان
مکمل کر لے تو ایمان
زمانہ یاد کرے گا، زمانہ یاد کرے گا

دن رات تڑپ یہ رہتی ہے، اے کاش! مدینہ جاؤں میں
الطاف و کرم کی وادی سے تا عمر نہ واپس آؤں میں
میرے دل کا ہے یہی ارمان
نچھاور کر دوں ان پر جان
زمانہ یاد کرے گا، زمانہ یاد کرے گا

جب یاد نبی کی آتی ہے، اک کیف کا عالم ہوتا ہے
جب ذکرِ نبی چھڑ جاتا ہے، اک وجد کا موسم ہوتا ہے
یہی تو کہتا ہے قرآن
کہ آقا ہیں جانِ ایمان
زمانہ یاد کرے گا، زمانہ یاد کرے گا

سرکار سے تو ہے دور مگر، سرکار تو تجھ سے دور نہیں
کیوں کھویا کھویا رہتا ہے، مختار ہے تو مجبور نہیں
نبی کو پہلے دل سے مان
نبی پہ سب کچھ کر قربان
زمانہ یاد کرے گا، زمانہ یاد کرے گا

اسلاف کی ہے تاریخ یہی، ساحل پہ جلا دی ہے کشتی
دوڑائے ہیں گھوڑے دریا پر، کیا عشقِ نبی کی مستی تھی
تمہی ہو وہ مردِ میدان
ذرا ڈھونڈو اپنی پہچان
زمانہ یاد کرے گا، زمانہ یاد کرے گا

جو بات تھی اعلیٰ حضرت میں، وہ آج کسی حضرت میں نہیں
وہ عشقِ نبی کا پیکر تھے، تھراتے تھے ان سے دشمن بھی
دیا ہم کو کنزالایمان
یہ ہے ہم پر ان کا احسان
زمانہ یاد کرے گا، زمانہ یاد کرے گا

دربارِ ولایت کیا کہنا، جب ان کا اشارہ ملتا ہے
برسوں کی ڈوبی کشتی کو اک پل میں کنارہ ملتا ہے
اسد! یہ غوث کا ہے فیضان
ہے جس سے نجدی بھی حیران
زمانہ یاد کرے گا، زمانہ یاد کرے گا

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top